16 اگست 2013 - 19:30
سعودی فرمانروا نے دی مصر میں قتل عام کی اجازت

سعودي عرب کے حمکراں نے مصري کے فوجي حکام کي حمايت کا اعلان کيا ہے، سعودي عرب کے حکمراں کا کہنا ہے کہ بقول ان کے دہشت گردي کے خلاف مصر کي جنگ کي حمايت کرتے ہيں اور محمد مرسي کے حاميوں کي سرکوبي، عبوري حکومت کا شرعي حق ہے-

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، سعودي عرب کے حکمراں کا کہنا ہے کہ بقول ان کے دہشت گردي کے خلاف مصر کي جنگ کي حمايت کرتے ہيں اور محمد مرسي کے حاميوں کي سرکوبي، عبوري حکومت کا شرعي حق ہے -سعودي بادشاہ عبد اللہ بن عبد العزيز نے جمعہ کے روز ٹي وي پر اپني ايک تقرير ميں عرب ملکوں سے اپيل کي ہے کہ وہ مصر کو ناپائدار بنانے کي کوششوں کا مقابلہ کريں - انہوں نے کہا کہ سعودي عرب، دہشت گردي، گمراہي، فتنہ اور مداخلت کي کوشش کرنے والوں کے خلاف اپنے مصري بھائيوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا  -انہوں نے کہا کہ مصر ميں مداخلت اور اس ملک کے عوام کو گمراہ کرنے والوں کو گرفتار کرنا ايک شرعي حق ہے - مصر ميں حاليہ تبديليوں کے سلسلے ميں سعودي عرب کے حکمراں کا يہ پہلا بيان ہے -سعودي عرب، مصر کے معزول ڈکٹيٹر حسني مبارک کا اہم حامي تھا اور اس نے محمد مرسي کي برطرفي کے بعد مصر کو پانچ عرب ڈالر کي مدد کا وعدہ کيا  ہے - اسي طرح سعودي عرب کے فرمانروا، عدلي منصور کو مصر کا عبوري صدر بنائے جانے کے بعد انہيں مبارک باد دينے والے پہلي غير ملکي حکمراں  تھے- متحدہ عرب امارات، بحرين اور کويت نے بھي مصر کے سلسلے ميں سعودي عرب جيسا موقف اختيار کيا ہے -

مصر کے حالات پر عالمی رد عملمصر میں فوج کے ہاتھوں مظاہرین کے قتل عام پر عالمی رائے عامہ نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ اس درمیاں امریکہ کے صدر باراک اوباما نے بھی احتجاج کرنے والوں پر مصری فوج کے تشدد کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن مصر میں فوجی حکومت کے جاری رہنے کا مخالف ہے۔ انہوں نے مصرکی عبوری حکومت سے جو فوجی بغاوت کے بعد برسر کار آئي ہے کہا کہ ملک میں ایمر جنسی ختم کرے۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اب مصر کے ساتھ ماضی کی طرح تعاون جاری نہیں رکھ سکتا، انہوں اسی کے ساتھ ساتھ مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کی منسوخی کا بھی اعلان کردیا۔ واضح رہے انیس سو اسی میں صیہونی حکومت کے ساتھ صلح کے معاہدے کیمپ ڈیوڈ پر دستخط کئے جانے کےبعد امریکہ ہرسال مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کیا کرتا تھا۔ لیکن اس سال یہ فوجی مشقیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ دوہزار گيارہ میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کی وجہ سےبھی یہ فوجی مشقیں منسوخ کردی گئي تھیں۔اس سال کی مشترکہ فوجی مشقون میں امریکہ کے تیس ہزار فوجی اور مختلف یورپی ممالک بھی شرکت کرنے والے تھے۔ اوباما نے کہا ہے انہوں نے مصری عوام پر فوج کے تشدد پر احتجاج کرتے ہوئے مصر کےساتھ فوجی مشقین منسوخ کی ہیں، اوباما نے اس کے با وجود یہ تاکید کی کہ امریکہ مصر کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھے گا۔ دراصل مصری حکومت کے ساتھ فوجی مشقیں منسوخ کرنا اوباما کا ایک تشہیراتی اقدام ہے اور اس کا مقصد واشنگٹن کو رائے عامہ کے دباؤ سے بچانے کی ایک کوشش ہے کیونکہ عالمی رائے عامہ مصری فوج کے ہاتھوں سیکڑوں افراد کے مارے جانے پر شدید طرح سے برہم ہے۔ اس کے علاوہ مصر کے ساتھ فوجی مشقیں منسوخ کرنے لیکن فوجی تعاون جاری رکھنے میں کونسی دانشمندی ہے؟ اوباما نے کہا ہے کہ اگر مصر میں جھڑپيں جاری رہیں اور مزید خون خرابہ ہوا تو مصر اور امریکہ کے درمیاں فوجی تعاون پر برے اثرات پڑسکتے ہیں۔ اوباما کا یہ موقف بعض ری پبلیکن ارکان کانگریس کے دباو کے نتیجے میں سامنے آیا ہے کیونکہ اس پارٹی کے بعض اراکین نے مطالبہ کیا ہےکہ امریکہ کو مصر کے ساتھ فوجی تعاون ختم کردینا چاہیے۔ جو بات مسلم ہے وہ یہ ہےکہ ری پبلیکن بھی انپے دعووں میں سچے نہیں ہیں وہ بھی صیہونی حکومت کی حفاظت کرنا اپنا اولین فریضہ سمجھتے ہیں۔ مصری فوج کیمپ ڈیوڈ معاہدے کےبعد سے امریکہ کے قریبی حلیف میں تبدیل ہوگئي ہے دراصل مصر کی فوج صیہونی حکومت کے تحفظ کے لئے امریکہ کا ایک بنیادی ہتھکنڈا ہے لھذا مصر میں کسی بھی طرح کی تبدیلی امریکہ کے لئے اس ملک کی فوج کی اہمیت میں کمی نہیں لاسکتی اسی وجہ سے مصراور امریکہ کے فوجی تعاون کےبارے میں اوباما کے دعوے محض تشہیراتی ہتھکنڈے شمار ہوتے ہیں۔

.......

/169